تاریخ اسلام یوں تو جنگ کی سختیوں، فتح کی بشارتوں اور ایسی مثالوں پر مبنی ہے کہ دل میں خود بخود خوشی پھوٹ اٹھتی ہے کہ چلو ہماری بہار تو ایسی تھی کہ سن کر اور پڑھ کر انسان خوش ہو سکتا ہے۔انہیں واقعات میں ہمیں ایسے واقعات کی شبیہ بھی نظر آتی ہے تو تھے تو مصلحت پر مبنی لیکن انسان بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے۔ ان میں سے دو واقعات نیچے لکھ رہا ہوں۔ پہلے کا تعلق فتح ایران کی سب سے بڑی جنگ یعنی جنگِ قادسیہ سے ہے۔ رستم کا نام سب نے ہی سن رکھا ہے۔ قادسیہ کی جنگ میں ایرانی فوج کا سپہ سالار یہی رستم تھا۔ یہ جنگ مدائن کے باہر قادسیہ کے میدانوں میں لڑی گئی تھی۔ بعض روایات کے مطابق رستم اپنی فوجی طاقت مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہونے کے با وجود بھی ان سے جنگ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ بعض موئرخین کا کہنا ہے کہ اس نے کوئی خواب دیکھا تھا جس کے بعد وہ تذبذب کا شکار ہو چکا تھا اور اسی لئے اس جنگ کو ٹالنا چاہ رہا تھا۔ خیر پہلے دن ساٹھ ہزار کا لشکر لیکر رستم قادسیہ کے میدان میں مسلمانوں کی فوج کے سامنے ڈیرے ڈالے ہوئے تھا۔ اب بھی اس نے اپنا ایک ایلچی حضرت سعد کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ آپ اپنا کوئی معتمد بھیجیں میں مصالحانہ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت سعد نے ربعی بن عامر کو مسلمانوں کی جانب سے بھیجا۔ ربعی بن عامر گھوڑا دوڑاتے ہوئے ایرانیوں کے لشکر میں داخل ہوئے، اس سے قبل رستم اپنے لشکر کو قوت اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کا حکم دے چکا تھا چنانچہ ربعی کے راستے میں ایرانی فوج کے ہاتھی اور پیادہ فوج کھڑی تھی۔ پڑاؤ کے درمیان ایک شامیانے کو حریر اور اطلس کے پردوں اور موتیوں سے سجایا گیا تھا۔ شامیانے کے درمیان رستم کا سنہری تخت تھا جس کے اوپر چھتر کو سونے اور ہیرے کی جھالروں سے سجایا گیا تھا۔ فرش پر بیش قیمت قالین تھے اور ان پر گاؤ تکیئے موجود تھے جن پر زربفت کے غلاف چھڑہائے گئے تھے۔ یہ ایک عظیم سلطنت کے ظاہری ساز و سامان کی نمائش تھی لیکن ربعی جس شان سے آئے انہیں دیکھنے والے دم بخود رہ گئے۔ ان کا لباس موٹا اور کھردرا تھا۔ ان کی زرہ ایران کے ایک ادنیٰ سپاہی کے قابل بھی نہ تھی۔ ان ی تلوار کی نیام پر چیتھڑے بندھے ہوئے تھے۔ وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے شامیانے تک پہنچ کر اترے پھر اپنے نیزے قالین کے سرے میں سوراخ کیا۔ پھر اپنے گھوڑے کی لگام اس میں اٹکانے کے بعد اپنے نیزے کی انی ٹیکتے اور قالین میں سوراخ کرتے تخت کے قریب پہنچ کر اس کے سامنے نیزہ گاڑا اور تخت پر رستم کے برابر آکر بیٹھ گئے۔رستم کے آدمیوں نے ان کو تخت سے اتارنے اور ان کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا “میں تمہاری دعوت پر یہاں آیا ہوں۔ ہمارے مذہب میں اس بات کی اجازت نہیں کہ کوئی تخت پر خدا بن کے بیٹھے اور دوسرے بندے اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں۔ اگر تم کو میرا یہاں بیٹھنا گوارا نہیں تو میں جاتا ہوں”۔ رستم نے اپنے آدمیوں کو منع کیا اور وہ دور ہٹ گئے۔ پھر ربعی کے دل میں کوئی خیال آیا اور وہ تخت سے اترے اور اپنے خنجر سے قالین کا ایک ٹکرا کاٹا اور زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا ” میں اللہ کی قدرتی زمین کو اس مصنوعی زمین پر ترجیح دیتا ہوں۔ اس کے بعد ان کے اور رستم کے درمیان نوک جھونک جاری رہی جب وہ باہر نکلے تو ایک افسر کے کہا “تم ان تلواروں کے ساتھ ایران فتح کرو گے؟” ربعی کی جواب دیا تم نے صرف نیام دیکھی ہے تلوار نہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے تلوار باہر نکال لی اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بجلی کوند گئی۔اس کے بعد ایک سپاہی نے اپنی ڈھال پیش کی اور کہا کیا تم اس کو کاٹ سکتے ہو؟ اس کے بعد ربعی کی تلوار میں جنبش ہوئی اور سپاہی کی ڈھال کے پرخچے اڑ گئے۔ ربعی گھوڑے پر سوار ہو گئے اور یہ کہہ کر اسلامی لشکر کی جانب پلٹ گئے کہ میں میدانِ جنگ میں تمہیں مایوس نہیں کروں گا۔ دوسرا واقعہ فتح مصر سے تعلق رکھتا ہے۔ فوج کی کمان حضرت عمرو بن العاص کے ہاتھ میں تھی وہ مصر کے مختلف شہر فتح کرتے ہوئے فسطاط پہنچے اور مسلسل سات ماہ تک جھڑپیں ہونے کے بعد آخر کار دشمن نے ہتھیار ڈال دئیے اور اسلامی افواج کی جانب سے امان کا اعلان ہو گیا۔ اسی موقع پر ایک بار عیسائیوں نے دھوم دھام سے مسلمانوں کی دعوت کی اور حضرت عمرو نے قبول کی اور چند افراد کے ساتھ دعوت میں شریک ہو گئے۔دوسرے دن عمرو نے ان لوگوں کی دعوت کی اور مسلمانوں کی حکم دیا کہ سادگی سے پیش آئیں۔ لباس بھی سادہ اور کھانہ بھی سادہ رکھا گیا۔یعنی سادہ گوشت اور روٹی۔ رومی جب کھانے میں شریک ہوئے تو مسلمان گوشت کی بوٹیاں دانتوں میں رکھ کر اس زور سے کھینچتے تھے کہ شوربے کی چھینٹیں اڑ کر رومیوں کے کپڑوں پر گرتی تھیں۔ رومیوں نے شکایت کی کہ کل جو لوگ آپکے ساتھ آئے وہ تو بہت سلیقہ شعار تھے۔ عمرو نے جواب دیا کہ وہ اہل الرائے تھے اور یہ سپاہی ہیں۔