حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ میرے حوض کوثر پر آئیں گے اور میں اس وقت دوسرے لوگوں کو روک رہا ہوں گا جیسے ایک شخص اپنے حوض سے دوسرے کے اونٹوں کو الگ کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ ہم کو پہچان لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تمہاری ایک ایسی نشانی ہوگی جو کسی اور امت کے پاس نہ ہوگی تم میرے پاس حوض پر آؤ گے تو تمہارے اعضا وضو چمک رہے ہونگے۔ ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا وہ مجھ تک نہ پہنچ سکے گا۔ تب میں عرض کروں گا اے میرے رب یہ تو میرے امتی ہیں اس وقت ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا آپ ﷺ نہیں جانتے ان لوگوں نے آپ ﷺ کے بعد دین میں نئی نئی باتیں نکالی تھیں
ضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ کو اونگھ سی آگئی پھر مسکرا تے ہو ئے آپ ﷺ نے سر اٹھایا جس پر ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ کو کس چیز سے ہنسی آرہی تھی؟ ارشاد ہوا مجھ پر ابھی ابھی قرآن کریم کی سورت نازل ہوئی ہے چنانچہ آپ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر ا انا اعطینک الکوثر سورت کی پوری تلاوت فرمائی اور فرمایا تم لوگ جانتے ہو کوثر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور رسولؐ ہی زیادہ جانتے ہیں تو ارشاد ہوا کہ کوثر ایک نہر ہے جسکا پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اس میں بہت سی خوبیاں ہیں اور روزِ محشر میرے امتی اس حوض کا پانی پینے کے لئے آئیں گے اس حوض پر اتنے برتن ہے جتنے آسمان کے ستارے ۔ایک شخص کو وہاں سے بھگادیا جائے گا جس پر میں کہوں گا اے اللہ یہ شخص میرا امتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا نہیں یہ آپ کا امتی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے آپؐ کے بعد دین میں نئے نئے کام ایجاد کئے۔
مسلم کتاب الطہارہ